Interest ke paise ko bagari sawab ki niyyat ke garib ko dena zarori he,
سودی رقم کو رفاہی اُمور میں استعمال کرنا؟
سوال(۱۷۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کے پاس سود بیاج کی کافی رقمیں ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ کسی استعمال میں یہ رقمیں لگ جائیں، تو لوگوں کے بتانے پر زید اپنی رقم سے بیت الخلاء بنوانا چاہتے ہیں؛ لیکن عمر اشکال پیدا کردیتا ہے کہ سود کی رقم سے زیادہ بہتر ہے کہ رفاہِ عام بیت الخلاء بنوادیا جائے، تو اچھا ہے؛ لیکن زید کہتا ہے کہ نہیں، میں اس رقم سے کسی مرکزی مدرسہ میں بیت الخلاء بنوانا چاہتا ہوں، تو آیا کہ مدرسہ کا بیت الخلاء بنوانا زیادہ بہتر ہے یا رفاہِ عام بیت الخلاء زیادہ بہتر ہے، اگراس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہو تو دور فرماکر ظاہر فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: فقہی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام رقم رفاہی امور میںاستعمال نہیں کی جاسکتی؛ بلکہ اس کا یا تو اصل مالک کو لوٹانا، ورنہ صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں بینک سے حاصل شدہ سودی رقم غریبوں پر صدقہ کردی جائے، اسے مدرسہ یا عوامی بیت الخلاء کی تعمیر میں نہ لگایا جائے۔
ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۲؍۹؍۱۴۱۷ھ
No comments:
Post a Comment