الجواب وباللہ التوفیق:
جو حضرات جشن عید میلاد النبی ﷺکا اہتمام کرتے ہیں کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہیکہ آپ جو یہ جشن مناتے ہیں بہت سی خرافات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے اور دلیل کے طور پر فرامین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے آپ کا ارشاد مبارک من احدث فی امرنا ھذا ما لیس فیه فھو رد(بخاری) جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اس میں نہیں تھی تو وہ رد ہے، یا یہ کہ ایاکم ومحدثات الامور(ابو داؤد) تم دین میں بدعات ایجاد کرنے سے بچو وغیرہ جب سنائے جاتے ہیں تو ان کی طرف سے یہ عجیب مطالبہ ہوتا ہے کہ صراحت کے ساتھ دکھایا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میلاد النبی کو بدعت کہا ہو تو اس کا آسان جواب یہ ہیکہ پہلے آپ ثابت کردیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے زمانے میں مروجہ میلاد کا کہیں کوئی اہتمام کیا گیا ہو؟منع تو اسی وقت کیا جاتا نہ جب لوگ اس کا اہتمام کر رہے ہوتے کسی نے اہتمام کیا ہی نہیں تو منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بدعت تو بہت بعد میں چل کر ایجاد ہوئی، پوری چھ صدیاں گذر چکی تھیں کہ اس بدعت کا مسلمانوں میں کہیں کوئی رواج نہ تھا، یہ نہ تو کسی صحابی کو سوجھی نہ تابعی کو نہ کسی محدث کواور نہ فقیہ کو، نہ کسی بزرگ کو اور نہ کسی ولی کو، یہ بدعت اگر سوجھی تو ایک مسرف بادشاہ کو اور اس کے ایک رفیق دنیا پرست مولوی کو، یہ بدعت 604ھ میں موصل کے شہر میں مظفر الدین کوکری بن اربل المتوفی 630 ھ کے حکم سے ایجاد ہوئی جو ایک مسرف اور دین سے بے پرواہ بادشاہ تھا۔
(دیکھیے راہ سنت ص 164 بحوالہ ابن خلکان وغیرہ)
قرآن وسنت میں اصول وضوابط بیان کے گیے ہیں فروعات بیان نہیں کی گئی ہیں، ایسا نہیں ہوا ہے کہ ہر ہر بدعت کا حکم لکھدیا گیا ہو، بریلوی حضرات بھی جب کسی نئی چیز کو ناجائز قرار دیتے ہیں تو وہ بھی اصول وضوابط ہی کو سامنے رکھ کر ناجائز کہتے ہیں۔
بہت ممکن ہیکہ کسی کم فہم شخص کو یہ باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو ایسے شخص کی کم فہمی اور کج فہمی دور کرنے کے لیے بریلوی حضرات کی کتب سے چند مثالیں پیش کردی جائیں جن کو خود یہ حضرات ناجائز کہتے ہیں اور ان سے معلوم کیا جائے کہ بتاؤ اس کے منع کی دلیل کہاں لکھی ہے؟
مثلاً شیعوں کے یہاں جو تعزیہ اٹھایا جاتا ہے احمد رضا خان صاحب بریلوی نے اسے بدعت لکھا ہے چانچہ لکھتے ہیں:
تعزیہ جس طرح رائج ہے یہ ضرور بدعت شنیعہ ہے شیعوں سے تشبیہ کے سبب بھی اسکی بھی اجازت نہیں یہ جو باجے تاشے مرثیہ ماتم برق پری کی تصویریں تعزیے سے مرادیں مانگنا اسکی منتیں ماننا اسے جھک جھک کر سلام کرنا سجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ اس میں بدعات کثیرہ ہوگئی ہیں اور اب اسی کا نام تعزیہ داری اور یہ ضرور حرام ہے، ایسے ہی لکھتے ہیں: تعزیہ بنانا ناجائز اور بدعت ہے۔ [ دیکھیں فتاوی رضویہ ج ۲۴ ص ۵۰۱]
اب بریلویوں سے شیعہ کہیں کہ بتاؤ تعزیہ اٹھانے کو منع کہاں لکھا ہے؟ صاف صاف لکھا ہوا دکھاؤ تو مانیں گے ورنہ نہیں اس جہالت کا کچھ علاج ہے؟
احمد رضا خان صاحب نے ماہ محرم میں جو بعض جہلاء سواری اپنے مکان پر بٹھاتے ہیں اور اس پر چڑھاوے جڑھاتے ہیں اس کے بارے میں لکھا ہے:
سواری مذکور بٹھانا اور اس سے منتیں مانگنا بدعت جہال ہے کہ فسق عقیدہ یا فسق عمل سے خالی نہیں ( فتاوی رضویہ ج 3 ص 178)
اب کوئی پوچھے کہ صاف صاف لکھا دکھاؤ کہ یہ بدعت ہے تو اس جہالت کا کیا جواب ہوگا؟
ایسے بہت سے مسائل ہیں جو ان حضرات کے یہاں بھی جائز نہیں ہیں۔
رافضیوں کی مجلس میں جانا اور مرثیہ سننے کو حرام لکھا ہے( احکام شریعت اول ص 75)
ایک شخص کا ایک ہی وقت میں دو جگہ اذان کہنا مکروہ ہے، بیٹھ کر اذان کہنا مکروہ ہے، مؤذن کو حالت اذان میں چلنا مکروہ ہے، اثنائے اذان بات چیت کرنا مکروہ ہے ( دیکھیں بہار شریعت سوم ص 469]
اب کوئی یہ سوال کرنے لگے کہ ان سب مسائل کو اس وقت مانوں گا جب کہ صاف صاف حدیث میں لکھا دکھایا جائیگا تو اس جہالت کے جواب میں کیا کہیں گے یہ حضرات؟ ظاہر ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، لہذا بریلوی حضرات کو چاہیے کہ عید میلاد کے نام پر جو خرافات ہونے لگی ہیں ان سے تائب ہوں اور یہ تسلیم کریں کہ قرآن وسنت کی روشنی میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدُّ. (صحيح البخاري رقم الحديث: ٢٦٩٧)
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَإِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتِ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ. ) صحيح البخاري رقم الحدیث: ۷۲۷۷)
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِدِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ. (سنن ابي داود رقم الحديث: ٤٦٠٧)
کتبہ عیسیٰ زاہد قاسمی