Fatawa

Wednesday, 1 July 2020

بکری پالنے کی فضیلت

اس کی تحقیق مطلوب ہے

جواب
صحیح نہیں ہے
٣٦٢٥ - أنس بن مالك
الشّاة فِي البَيْت ترد سبعين بابا من الفقر .

[الفردوس بمأثور الخطاب ٢/‏٣٦٤]

قال السخاوي : أحسبه لا يصح.

[الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية ١/‏٢٦٣]

گاڑی کی انشورنس کا حکم

گاڑی کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟،
اور انشورنس کے تحت کمپنی سے گاڑی صحیح کروانا کیسا ہے؟
جواب جائز نہیں ہے
البتہ اگر کسی ملک میں گاڑی کا انشورنس کرانا ضروری ہو تو مجبوری کے تحت جائز ہے
دارالافتاء  بنوری ٹاون کا یہ فتوی ملاحظہ فرمائیں

سوال

میں سعودیہ میں ملازمت کرتا ہوں، یہاں کار ڈرائیو کرنے کے لیے اس کا انشورنس کرانا لازمی ہے، ایکسیڈنٹ ہوجائے تو گاڑی کی رپئیرنگ کروائی جاتی ہے، اور کار انشورنس نہ کرائی گئی ہو تو اس پر جیل میں بھی بھیجا جاسکتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

کار انشورنس بھی جوئے کی ایک صورت  ہے اور اپنے اختیار سے کار انشورنس کراناشرعاً جائز نہیں، لیکن جبری اور قانونی طور پر اگر کار کی انشورنس کرانا لازمی ہو تو (دل سے ناجائز سمجھتے ہوئے انشورنس کرانے والے مجبور شخص کو)  اس کا گناہ نہیں ہوگا،  البتہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں صرف اپنی جمع کی ہوئی رقم کے بقدر ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم 

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143811200018
تاریخ اجراء :02-08-2017