Fatawa

Tuesday, 27 February 2018

EHTILAM ke gusul ka tarika?

Indiaسوال # 56700
میرا سوال یہ ہے کہ احتلام کے غسل کا طریقہ کیا ہے اور اگر سوتے وقت احتلام ہوا تو؟
Published on: Dec 31, 2014 جواب # 56700
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 206-206/M=3/1436-U

احتلام کے غسل کا طریقہ یہ ہے: 
(۱) اولاً پاکی کی نیت کرکے بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھ دھوئے۔ 
(۲) بدن پر جہاں جہاں نجاست (منی وغیرہ) لگی ہو اس کو دھلے، اور اگر جس کپڑے میں احتلام ہوا ہے اسی کپڑے میں غسل کرے تو پہلے کپڑے پر جہاں کہیں منی کے اثرات ہوں اس کو دھل لے۔
(۳) پھر مکمل وضو کرے، البتہ ناک میں پانی ڈالتے وقت اور کلی کرتے وقت مبالغہ سے کام لے کیونکہ یہ غسل کے فرائض میں ہے: وفي الہندیة: وہي ثلاثة: المضمضة، والاستنشاق، وغسل جمیع البدن الخ (ہندیة جدید: ۱/ ۱۶۴، ط: اتحاد) 
(۴) پھر داہنے کندھے پر تین مرتبہ پانی بہائے، اس کے بعد بائیں کندھے پر تین مرتبہ پانی ڈالے، اس کے بعد سرپر تین مرتبہ پانی ڈالے۔
(۵) رگڑکر سارے اعضاء کو دھلے۔ 
(۶) قبلہ رخ غسل نہ کرے۔
(۷) ضرورت سے زیادہ پانی نہ بہائے۔
(۸) تنہائی میں غسل کرے۔ 
(۹) اگر غسل خانہ میں پانی جمع ہوجاتا ہو تو غسل کے بعد وہاں سے ہٹ کر اپنے پیر پاک کرے۔
سوتے وقت اگر احتلام ہو، خواہ شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے، اٹھنے کے بعد اگر منی کا اثر کپڑے پر موجود ہو تو اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے، بغیر غسل کیے نماز وغیرہ پڑھنا درست نہیں ہے۔ 

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

No comments:

Post a Comment