بیک وقت کئی جنازے جمع ہوجائیں
اگر ایک ہی وقت میں کئی جنازے جمع ہوجائیں تو بہتر یہ ہے کہ ہر ایک کی نماز جنازہ علیحدہ علیحدہ پڑھی جاے اس صورت میں جو سب سے زیادہ (علم وعمل میں) افضل ہو اس کی نماز جنازہ سب سے پہلے پڑھی جائے اور اگر سب پر ایک ہی ساتھ نماز پڑھی جاے تب بھی جائز ہے، سب کے لئے ایک ہی نماز کافی ہوجائے گی۔ وإذا اجتمعت الجنائز فافراد الصلاۃ علی کل واحدۃ أولی من الجمع وتقدیم الأفضل أفضل وإن جمع جاز۔ (در مختار مع الشامی زکریا ۳؍۱۱۸، بیروت ۳؍۱۱۱، بدائع الصنائع ۲؍۵۶، احسن الفتاویٰ کراچی ۴؍۲۰۸)
بالغ ونابالغ دونوں طرح کی اموات جمع ہوجائیں تو نماز جنازہ میں کیا دعاء پڑھیں؟
اگر بالغ اور نابالغ دونوں طرح کی اموات جمع ہوجائیں تو ایسی صورت میں بالغوں کی دعاء کے بعد نابالغوں کی دعاء بھی پڑھی جائے گی۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۵۸۶) ولا یستغفر فیہا لصبي بل یقول بعد دعاء البالغین: ''أللّٰہم اجعلہ لہ فرطاً'' وہو دعاء لہ أیضاً۔ (درمختار زکریا ۳؍۱۱۳) ولا یستغفر لصبي ویقول في الدعاء: ''اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً'' بعد تمام قولہ: ''ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان''۔ (طحطاوي علی المراقي دار الکتاب ۵۸۷، حلبي کبیر أشرفي ۵۸۷، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۸۴، الدر المنتقیٰ مع مجمع الانہر بیروت ۱؍۲۷۱)
No comments:
Post a Comment