کیا نماز میں حضور علیہ السلام کا خیال آنا مفسدِ صلوٰۃ ہے؟
سوال(۲۳) :- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر نماز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آجائے تو کیا نماز فاسد ہوجاتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سرور دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کا نماز کے دوران محض خیال آجانا نماز کے لئے مفسد نہیں ہے، اور یہ خیال آخر کیسے مفسد ہوسکتا ہے؟ جب کہ التحیات اور درود شریف پڑھتے ہوئے پیغمبر علیہ السلام کا ذکر لازم ہے جو نماز کے واجبات وسنن میں شامل ہے؛ البتہ اگر اس طرح کا تصور نمازی کے ذہن میں جم جائے کہ وہ نعوذ باﷲ اﷲ تبارک وتعالی کی عبادت نہ کرکے پیغمبر علیہ السلام کی عبادت اور ان کے سامنے رکوع اور سجدہ کررہا ہے، تو اس خاص صورت میں شرک فی العبادۃ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ نماز فاسد ہوگی؛ بلکہ نمازی کا ایمان بھی خطرہ میں پڑجائے گا؛ کیوں کہ غیر اﷲ کی عبادت کا تصور بھی حرام ہے۔ (کفایت المفتی ۱؍۱۵۹، فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۱؍۳۷۹، ۶؍۶۲۸)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ولو کنت آمر أحداً أن یسجد لأحد لأمرت المرأۃ أن تسجد لزوجہا۔ (سنن الترمذي، أبواب الرضاع/ باب في حق الزوج علی المرأۃ ۱؍۲۱۹) قال الملا علی القاري: فإن السجدۃ لاتحل لغیر اللّٰہ۔ (مرقاۃ المفاتیح ۶؍۲۷۲)
السجود لغیر اللّٰہ علی وجہ التکرمۃ والتحیۃ منسوخ۔ (أحکام القرآن الکریم للجصاص ۱؍۳۲)
یجب حضور القلب عند التحریمۃ فلو أشتغل قلبہ بتفکر مسألۃ مثلًا في أثناء الأرکان فلا تستحب الإعادۃ، وقال البقالي: لم ینقص أجرہ إلا إذا قصر۔ (شامي زکریا ۲؍ ۹۴) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقرمحمد سلمان منصور پوری غفر لہ ۱۲؍۱؍۱۴۳۰ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
No comments:
Post a Comment