Fatawa

Monday, 5 March 2018

عورت کا نماز پنج گانہ اور تراویح کی امامت کرنا؟



سوال ]۲۶۶۵[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ عورت کا فرض نماز پنج گانہ یا تراویح کی امامت کرنا کیسا ہے؛ جبکہ عورت ہی امام ہو اور عورتیں ہی مقتدی ہوں مع حوالہ جواب تحریر فرمائیں؟
المستفتی: حافظ مقصود احمد انصاری، مقام سکھڑا، ڈاکخانہ ڈھکولی، میرٹھ 
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ہر صورت میں عورت کی امامت ممنوع ہے، اگر مرد مقتدی ہو تومرد کی نماز ہی نہیں ہوگی اور عورتیں مقتدی ہوں تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔
عن عائشۃ-رضي الله عنہا- أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم، قال: لاخیر في جماعۃ النساء إلا في مسجد جماعۃ۔ (المعجم الأوسط، دارالفکر ۶/۴۴۸، رقم:۹۳۵۹، مسند أحمد بن حنبل ۶/۶۷، رقم:۲۴۸۸۰، ۶/۱۵۴، رقم:۲۵۷۲۸)
عن جابر بن عبد الله ؓ، قال: خطبنا رسول الله صلی الله علیہ، فقال:…ألا لاتؤمن امرأۃ رجلا۔ الحدیث (سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب في فرض الجمعۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/۷۵،دارالسلام رقم:۱۰۸۱)
ویکرہ تحریمًا جماعۃ النساء ولو في التراویح الخ (در مختار، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، زکریا ۲/۳۰۵، کراچي ۱/۵۶۵،کوئٹہ ۱/۴۱۸) فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۱۹؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۸ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۴؍۶۹۳)

No comments:

Post a Comment