Fatawa

Monday, 16 April 2018

شبِ برأت، شبِ قدر اور شبِ معراج کے بارے میں

سوال(۳۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے شہر؛ بلکہ ہر جگہ یہ رواج ہے کہ شبِ برأت، شبِ قدر اور شبِ معراج میں لوگ راتوں کو عبادت کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، تلاوت وذکر واذکار کرتے ہیں، دعا ومناجات میں لگے رہتے ہیں، اور بعض لوگ صبح میں روزہ بھی رکھتے ہیں، اہل علم ایسی رات کو غنیمت جان کر اس وقتی اجتماع سے فائدہ اٹھاکر عوام کو دین سمجھاتے ہیں، دین کی ترغیب دلاتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے احکام بتلاتے ہیں؛ تاکہ لوگ دین سمجھ سکیں اور دین سے لگے اور جڑے رہیں، مگر یہاں بھی بعض لوگ ان کاموں کو بے اصل بتاکر لوگوں کو روکتے ہیں، یہاں تک شیخی کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے تھے، ان کو بھی توڑوا دیتے ہیں؛ لہٰذا شرعی اعتبار سے اس کی حقیقت کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شبِ قدر کی بات نصوصِ صریحہ سے ثابت ہے کہ رات میں عبادت کی جائے اور اسی شبِ قدر کی تلاش میں رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا جاتا ہے، نفل نماز، ذکر واذکار، مناجات اور تلاوت وغیرہ میں لگے رہیں، اور دن میں روزہ رکھنا فرض ہے؛ اس لئے کہ رمضان کا مہینہ ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: {لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرِ} [القدر: ۳] (شبِ قدر میں ایک رات کی عبادت ہزار رات کی عبادت سے بہتر ہے) مگر نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا مشروع نہیں ہے، اور شبِ برأت یعنی شعبان کی پندرہویں شب میں عبادت کرنا بعض روایات سے ثابت ہے، اگرچہ وہ روایات اونچے درجہ کی نہیں ہیں؛ لیکن فضائل کے باب میں عمل کی گنجائش ہے، مگر اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھی جائے؛ البتہ دن میں روزہ رکھناکسی صحیح حدیث شریف سے ثابت نہیں ہے۔
ابن ماجہ شریف میں ایک روایت ہے، وہ روایت بھی عبد الرحمن بن ابی سبرہ کی وجہ سے موضوع کے درجہ میں ہے، اس لئے اسی دن روزہ رکھنے کا استحباب ثابت نہیں ھوسکتا؛ البتہ ایامِ بیض کے اعتبار سے اس دن روزہ رکھنا منع بھی نہیں ہے۔
عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا۔ (سنن ابن ماجۃ ۹۹)
اب رہی بات شبِ معراج کی، تو خود ہمارا سوال ہے کہ پہلے معراج کی تعیین کی جائے کہ کس رات میں معراج شریف کا واقعہ ہوا ہے؟ قرآن وحدیث میں صرف اتنا ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں تشریف لے گئے ہیں؛ لیکن کسی مہینہ کی کس شب میں تشریف لے گئے ہیں؟ متعین طور پر ثابت نہیں ہے۔ بعض روایات میں ربیع الاول، بعض روایات میں ربیع الثانی، بعض روایات میں رجب، بعض روایات میں رمضان اور بعض روایات میں شوال؟
تو ہمارا سوال ہے کہ پہلے سائل اس بات کو صحیح حدیث شریف سے ثابت کریں، اس کے بعد ہی اس رات میں عبادت کی بات کہی جاسکتی ہے، اپنی طرف سے متعین کرکے کسی رات کو شبِ معراج قرار دینا پھر اس رات میں عبادت کا اہتمام کرنا اور لوگوں کو ترغیب دینا یہ دین اسلام میں ایک چیز کا اضافہ کرنا ہے، جو حدیث شریف ''من أحدث في أمرنا ہٰذا ما لیس منہ فہو رد''۔ (مشکوٰۃ شریف ۲۷) کے تحت داخل ہوکر بدعت اور ناجائز ہوگا؛ لہٰذا اس کا ترک مسلمانوں پر لازم ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۰؍۵؍۱۴۲۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ

No comments:

Post a Comment