شبِ معراج منانا؟
سوال(۶۹) :- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے علاقہ میں برسہا برس سے ماہِ رجب کی ۲۷ ؍ویں شب کو مساجد میں شبِ معراج مناتے ہیں، جس کو عام لوگ شب برأت وشب قدر کی طرح فضائل وبر کات والی رات سمجھتے ہیں اور یہ بھی جاگنے کی رات کے نام سے مشہور ہے؛ لیکن جامع مسجد نرمل میں پچھلے آٹھ نوسال سے بعض علماء نے یہ سلسلہ بند کردیا اور یہ بیان کیا کہ شبِ قدر وغیرہ کی طرح شبِ معراج منانے کی اہمیت نہیں ہے، اور قرآن وحدیث سے شبِ معراج کی کوئی اہمیت وفضیلت ثابت نہیں، حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے بعد صحابہ وتابعین کے دور میں کہیں بھی اور کبھی بھی شبِ معراج نہیں منائی گئی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ سب باتیں درست ہیں؟ جب کہ پچھلے آٹھ نو سال سے جامع مسجد نرمل میں یہ سلسلہ بند ہے، اب کچھ لوگ شدت کے ساتھ پھر اس کو رواج دینا چاہتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ بحوالہ کتب جواب صادر فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اولاً تو حتمی طور پر یہ بات طے نہیں ہے کہ معراج کس مہینہ اور کس شب میں پیش آئی؟ دوسرے اگر کوئی تاریخ ثابت بھی ہوجائے تو اس رات میں خصوصیت کے ساتھ عبادت کرنے اور اس کا غیر ضروری اہتمام کرنے کا ثبوت دور نبوت، دور صحابہ اور سلف صالحین سے نہیں ہے، اس لئے جو حضرات اس رات میں خصوصی پروگرام وغیرہ کرنے پر نکیر کرتے ہیں وہ حق پر ہیں۔ اور جن مساجد میں اس رات میں پروگرام کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسے ختم کرنا ضروری ہے، تاکہ اس بدعت پر روک لگ سکے ۔
یکرہ الاجتماع علی إحیاء لیلۃ من ہٰذہ اللیالي المتقدم ذکرہا في المساجد وغیرہا؛ لأنہ لم یفعلہ النبي ا ولا أصحابہ، فأنکرہ أکثر العلماء من أہل الحجاز، وقالوا: ذٰلک کلہ بدعۃ۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي، فصل في تحیۃ المسجد ۳۲۶)
اعلم إنا لم نجد في الأحادیث لا اثباتاً ولا نفیاً مما اشتہر بینہم من تخصیص الخامس عشر من رجب بالتعظیم والصوم والصلاۃ۔ (ما ثبت بالسنۃ ۱۹۱-۱۹۲، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۵؍۵۰۰ میرٹھ)
ومن ہنا یعلم کراہۃ الإجتماع علی صلوۃ الرغائب التي تفعل في رجب أو في أولی جمعۃ منہ، وأنہا بدعۃ ۔ (شامی زکریا ۲؍ ۴۶۹، حلبی کبیر ؍۴۳۲، البدایۃ والنہایۃ۳؍ ۱۰۹، مرقاۃ المفاتیح ۱۱؍ ۱۳۸، روح المعاني ۹؍ ۱۰، معارف القرآن بیت الحکمۃ دیوبند ۵؍ ۴۴۳، سیرۃ المصطفی ۱؍ ۲۸۸) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقرمحمد سلمان منصور پوری غفر لہ ۱۵؍ ۷؍ ۱۴۲۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
No comments:
Post a Comment