منفرد کا رات کی نماز میں زور سے تکبیر اور قرأت کرنا؟
سوال(۳۲۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید سنن ونوافل، وتر کی نمازوں میں تکبیریں ہرنماز میں زور سے کہتا ہے، تو کیا یہ درست ہے؟ اسی طرح منفرد کو فرض نماز کی تکبیریں اور قرأت زور سے کرنا چاہئے یا آہستہ،شرعی حکم کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جہری نمازوں کے وقت میں منفرد کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے جہر کرے یا آہستہ پڑھے، وتر اور رات کے نوافل کا بھی یہی حکم ہے؛ البتہ دن کی نوافل میں جہر نہیں ہے۔
کمتنفل بالنہار فإنہ یسر ویخیر المنفرد في الجہر وہو أفضل ویکتفي بأدناہ۔ (درمختار ۲؍۲۵۱ زکریا)
ویجب الإسرار في نفل النہار للمواظبۃ علی ذلک۔ (مراقي الفلاح علی الطحطاوي ۲۰۵، البحر الرائق ۱؍۳۳۵) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ۱؍۴؍۱۴۱۹ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
No comments:
Post a Comment