Fatawa

Monday, 26 March 2018

شریعت میں کن کن لوگوں سے پردہ کا حکم ہے؟

شریعت میں کن کن لوگوں سے پردہ کا حکم ہے؟


سوال ]۱۰۶۱۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ آج کل کے ماحول میں جبکہ ہر جگہ بے پردگی عام ہے، کوئی لڑکی اگر پردہ کے حکم پر عمل کرناچاہے تو لوگ طعنہ دیتے ہیں ، اسی طرح کوئی شوہر اگر پردہ کروانا چاہے، تو اس لڑکے کے رشتہ دار وغیرہ طعنہ دیتے ہیں ۔ تو دریافت یہ کرنا ہے کہ شریعت اسلامیہ مین کن کن لوگوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے؟ تفصیل سے لکھدیں اور اگر رشتہ داروں میں جایاکریں ،
تووہاں ایک فیملی میں محرم غیر محرم ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، کس طرح پردہ کریں ، اپنے بہنوئی، دیور، جیٹھ وغیرہ سے پردہ کا کیا حکم ہے، کیا ان لوگوں کے سامنے آسکتے ہیں ؟ شریعت میں ان لوگوں کے بارے میں کچھ نرمی ہے یانہیں ؟
(۲) غیر محرم جس سے نکاح جائز ہے، شریعت میں اس سے پردہ کا حکم ہے تو بہنوئی سے سالی کا نکاح اس وقت تک جائز نہیں ؛ جب تک سالی کی بہن نکاح میں ہے، تو بہنوئی سے پردہ بھی نہیں ہوچاہئے؟ شرعی حکم کیا ہے تحریر فرمائیں ۔
.5المستفتی.5: .5محمدفیصل، کرولہ، مرادآباد 
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) اجنبی مرد سے پردہ فرض ہے، اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ حضور انے امہات المؤمنین سے پردہ کروایا ہے، پردہ کرنے پر اگر کوئی طعنہ دے، تو وہ شخص گنہگار ہوگا اور اس کی بات ہر گز نہ مانیں ۔ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں اور شریعت اسلامیہ میں اپنے شوہر ،باپ،دادا، ساس، سسر، بیٹا، پوتا، نواسا حقیقی بھائی بھتیجہ اور بھانجہ وغیرہ کے علاوہ سب سے پردہ فرض اور ضروری ہے اور بہنوئی دیور،جیٹھ سے بھی پردہ اسی طرح فرض ہے، جس طرح اجنبی مردوں سے فرض ہے؛ لیکن اگر فتنہ کا خطرہ نہ ہو، تو ان لوگوں سے بقدر ضرورت بات کرلینے کی گنجائش ہے۔
(۲) اور یہ کہنا کہ غیر محرم جس سے نکاح جائز ہے، شریعت میں اس سے پردہ کا حکم ہے، تو بہنوئی سے نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک سالی کی بہن نکاح میں ہے، تو بہنوئی سے پردہ نہ ہوناچاہئے صحیح نہیں ہے، بہنوئی سے پردہ فرض ہے، جو عورتیں ہمیشہ کے لئے حرام ہوتی ہیں ، صرف ان کے لئے پردہ نہیں ہے، سالی ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ؛ بلکہ اس کی حرمت ایک عارض کی بناء پر ہے، اگربیوی کا انتقال ہوجائے یاطلاق ہوجائے، تو عدت گذار نے کے بعدبہنوئی سے نکاح درست ہے؛ لہٰذا اس عارضی حرمت کی وجہ سے بہنوئی سے پردہ ساقط نہ ہوگا۔
وقولہ تعالیٰ: وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْبَنِیْ اَخَوَاتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُوْلِیْ الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرَاتِ النِّسَآئِ ۔ [سورۃ النور: ۳۰]
وقال اﷲ تعالیٰ:وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّْۃِ الْاُوْلَی۔ [الأحزاب:۳۲]
عن عقبۃ بن عامر قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء، فقال: رجل یا رسول اﷲ أفرأیت الحمو؟ قال: الحمو الموت۔ (صحیح البخاري، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بالمرأۃ لاذو محرم۲/۷۸۷، رقم:۵۰۳۶، ف:۵۲۳۲، صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ بالأجنبیۃ والدخول علیہا، النسخۃ الہندیۃ۲/۲۱۶، بیت الأفکار رقم:۲۱۷۲، مشکوۃ۲۶۸)فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم


کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۷؍ محرم الحرام ۱۴۲۰ھ
(فتویٰ نمبر: الف۳۴؍۵۹۷۰)

No comments:

Post a Comment