سود کی رقم انکم ٹیکس میں دینا
مسئلہ(۱۲۹): اگر کوئی شخص سودی بینک میں رقم جمع کرے، اور اُس پرسود کی رقم اُس کے کھاتے میں آئے، تو اُس سودی رقم کو بینک سے نکال کر غرباء ومساکین پر ، بلا نیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، اپنے استعمال میں لانا درست نہیں ، بعض علماء انکم ٹیکس میں دینے کی اجازت دیتے ہیں ، لیکن صدقہ کردینا زیادہ بہتر ہے۔
مسئلہ(۱۳۰):اگر کسی شخص کو بینک سے سودی رقم ملے، تو وہ اس سودی رقم کو انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس میں دے سکتا ہے، کیوں کہ یہ دونوں غیر شرعی ٹیکس ہیں (۱)، البتہ ہاؤس ٹیکس میں دینا جائز نہیں ، اس میں دینا گویا اپنے ذاتی استعمال میں لانا ہے، کیوں کہ ہاؤس ٹیکس والے مچھروں کو بھگاتے ہیں ، گھر کی نالیوں کو صاف کرتے ہیں ، گھر میں آنے والے پانی میں دوا ڈالتے ہیں ، غرض صفائی ستھرائی کراتے ہیں ، صحت کے اصول کا خیال کرتے ہیں ، اس لیے ہاؤس ٹیکس میں سودی رقم نہ دی جائے۔(۲)
------------------------------
=الحرام مثل کسب المخادع والمقامر ، والواجب في الکسب الخبیث تفریغ الذمۃ منہ بردہ إلی أربابہ إن علموا ، وإلا إلی الفقراء ۔ (۳۹/۴۰۷ ، المیسر)
ما في '' رد المحتار '' : والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔
(۷/۳۰۱ ، کتاب البیوع ، مطلب فیمن ورث مالا حراما)
ما في '' بذل المجہود '' : صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث ، فأما إن ملکہ بعقد فاسد ، أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمۃ عن نفسہ ، فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔
(۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ)
ما في '' رد المحتار '' : سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ ۔
(۹/۵۵۳ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع)
(چند اہم عصری مسائل:۲/۲۸۰، ۲۸۱۔
No comments:
Post a Comment